رب کا مطلب: اسلامی تعلیمات کے مطابق نثار احمد عابد (فکر و نظر)

معزز قارئین! سب سے پہلے تو یہ دیکھتے ہیں کہ رب کا ابتدائی اور اساسی مفہوم پرورش ہے تو اسی سے تصرف اصلاح حال، خبرگیری اور اتمام و تکمیل کا مفہوم پیدا ہوا۔ پھر اسی بنیاد پر فوقیت سعادت مالکیت اور آقائی کے مفہومات پیدا ہو گئے۔ لغت میں اس کے استعمال کے چند مثالیں یہ ہیں؛
ان مثالوں میں سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا ایک مطلب نشو و نما دینا بڑھانا پرورش کرنا ہے۔ ربیب اور ربیبہ پروردہ لڑکے اور لڑکی کو کہتے ہیں نیز اس بچے کو بھی ربیب کہتے ہیں جو ستیلے باپ کے گھر پر پرورش پائے۔ پالنے والی دائی کو بھی کہتے ہیں رابہ سوتیلی ماں کو کہتے ہیں کیونکہ وہ ماں تو نہیں ہوتی مگر بچے کی پرورش کرتی ہے اسی مناسبت سے رابع سوتیلے باپ کو کہتے ہیں۔ مربع اس دعا کو کہتے ہیں جو محفوظ کر کے رکھی جائے۔ اس کے معنی اضافہ کرنے بڑھانے اور تکمیل کو پہنچانے کے ہیں۔ جیسے رب النعمہ یعنی احسان میں اضافہ کیا یا احسان کی حد کر دی۔

پھر اس کا مطلب فراہم کرنا، جمع کرنا بھی ہیں مثلا ہم کہیں گے فلاں شخص لوگوں کو جمع کرتا ہے یا سب لوگ اس شخص پر مجتمع ہوتے ہیں۔ جمع ہونے کی جگہ کو مراب کہیں گے۔ سمٹنے اور فراہم ہو جانے کو تربب کہیں گے۔

اصلاح حال کرنا خبر گیری کرنا دیکھ بھال اور کفالت کرنا کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے فلاں شخص نے اپنی جائیداد کی دیکھ بھال اور نگرانی کی۔ ابو سفیان سے صفوان نے کہا میں نے قریش میں سے کوئی شخص مجھے اپنی ربوبیت سرپرستی میں لے لے یہ مجھے زیادہ پسند ہے بنسبت اس کے وزن کا کوئی آدمی ایسا کر۔

اس کا مطلب فوقیت، بالادستی، حکم چلانا، سرداری، تصرف کرنا جیسے فلاں شخص نے اپنی قوم کو اپنا تابع کر لیا اور ربیت القوم یعنی میں نے قوم پر حکم چلایا اور بالا دست ہو گیا۔

ایک اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مالک ہونا مثلا حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ارب و غنم ام رب ابل تو بکریوں کا مالک ہے یا اونٹوں کا۔ اس معنی میں گھر کے مالک کو رب الدار اونٹنی کے مالک کو رب الناقہ، جائیداد کے مالک کو ربالضیعہ کہتے ہیں اقا کے معنی میں بھی رب کا لفظ اتا ہے اور عبد یعنی غلام کے مقابلے میں بولا جاتا ہے غلطی سے رب کے لفظ کو پروردگار کے مفہوم تک محدود کر کے رکھ دیا گیا ہے اور ربوبیت کی تعریف میں یہ فقرہ چل پڑا ہے۔ حالانکہ یہ اس لفظ کے وسیع معنی میں سے صرف ایک معنی ہے۔

اس کی پوری وسعتوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لفظ اپنے اندر مندرجہ ذیل مفہومات رکھتا ہے؛

پہلا ہے پرورش کرنے والا، ضروریات بہم پہنچانے والا تربیت اور نشونما دینے والا۔ دوسرا اس کا مطلب ہے کفیل خبرگیراں، دیکھ بھال اور اصلاح حال کا ذمہ دار۔ تیسرے وہ جو مرکزی حیثیت رکھتا ہو، جس میں متفرق اشخاص مجتمع ہوتے ہوں۔ چوتھا سید سردار ذی اقتدار، جس کا حکم چلے، جس کی فوقیت و بالادستی کو تسلیم کیا جائے جسے تصرف کے اختیارات ہوں اور پانچواں یہ کہ مالک اور آقا کے معنی میں بھی یہ استعمال ہوتا ہے۔

آگے ہم قران میں اس لفظ کے استعمالات کے حوالے سے بھی کچھ مثالیں پڑھیں گے۔

یہاں میں سب سے پہلے ایسے سب دانشوروں، علماء و مشائخ، صلحاء ملت اور اسکالرز کیلئے دعا گو ہوں جنھوں نے علم سیکھا، اسے سمجھا اور دوسروں تک پہنچایا۔ ایسی بہت سی شخصیات میں سے ایک ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی صاحب مرحوم و مغفور ہیں۔ انھوں نے تفسیر روح القرآن لکھی ہے جو بہت جامع، مفصل اور آسان ہے۔ انھوں نے لفظ رب کی بھی بہت مفید تشریح کی ہے۔ اللہ تعالیٰ دین کیلئے ان کی خدمتوں اور کاوشوں کو اپنی بارگاہ میں پوری طرح قبول و منظور فرمائے اور اجر عظیم سے نوازے۔

اس کے پہلے نمبر کیلئے مثال یہ ہے؛
۔سورہ یوسف 12: 23
“اس نے کہا کہ بخدا وہ تو میرا رب ہے جس نے مجھے اچھی طرح رکھا”
یہاں پر بیک گراؤنڈ زلیخا اور حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کی ہے جس میں حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ معاذ اللہ! یعنی اللہ کی پناہ، میں گناہ سے پناہ چاہتا ہوں اور اس کی پناہ ہی ہے جو ایسے ماحول میں مجھے گناہ سے بچا سکتی ہے وہی میرا رب ہے میں اس کی پناہ چاہتا ہوں اس نے مجھے کیسے برے حالات سے کیسے اچھے حالات تک پہنچایا۔

اس کے دوسرے نمبر کیلئے مثال یہ ہے؛
سورہ الشعراء۔ 26: 77 – 80
“تمہارے یہ معبود تو میرے دشمن ہیں، بجز رب کائنات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، جو میری رہنمائی کرتا ہے، جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفا دیتا ہے”
رب العالمین میری پرستش اور بندگی کا اس لیے مستحق ہے کہ اس نے مجھے پیدا کیا اور مخالف اور موافق سب جانتے ہیں کہ اس کی تخلیقی عمل میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہے انسان پر اللہ تعالی کے بے شمار احسانات ہیں لیکن سب سے بڑا پہلا احسان انسان پیدا کرنا کیونکہ باقی سارے مراحل بعد میں شروع ہوتے ہیں معمولی عقل کا آدمی بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ جس ذات نے انسان کو تخلیق کیا ہے اس سے ہٹ کر اس کی بندگی پرستش کا اور کون حقدار ہو سکتا ہے رب العالمین کے معبود و مسجود ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا ہے بلکہ اس نے انسان کو ہم جہد قسم کی رہنمائی بھی فرمائی ہے اس کی مادی ضروریات کا اہتمام فرمایا ہے اسی طرح اس کی روحانی ضروریات کا بھی بہت اچھا انتظام فرمایا ہے۔ پھر ایک اللہ کی مستحق عبادت ماننے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ اس نے مجھے تخلیق فرمایا پھر میری زندگی کے بقا کے لیے نہ صرف امکانات پیدا فرمائے بلکہ ایک دن کے بچے سے لے کر بڑی ادمی تک کی غذا کا انتظام کیا ماں کے دل میں مانتا پیدا کی باپ کے دل میں شفقت کا بے کنار سمندر پیدا کر دیا چوتھی وجہ یہ کہ اللہ تعالی کے مسجود و معبود ہونے کی یہ بھی ہے کہ جب میں بیمار پڑ جاتا ہوں تو وہ مجھے شفا بخش دیتا ہے۔

اس کے تیسرے نمبر کیلئے مثال یہ ہے؛
سورہ ہود۔ 11: 34
“وہ تمہارا رب ہے اور اسی کی طرف تم پلٹا کر لے جائے جاؤ گے”
ہدایت اور گمراہی اسی اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے جہاں وہ تمہیں تمہارے عملوں کی جزا دے گا نیکوں کو ان کے عمل کی جزا اور درودوں کو ان کے عمل کی سزا دے گا۔ (تفسیر احسن البیان، مفسر مولانا صلاح الدین یوسف)

اس کے چوتھے نمبر کیلئے یہ دو مثالیں ہیں؛
سورہ توبہ 9: 31
“انہوں نے اللہ کے بجائے اپنے علماء اور درویشوں کو اپنا رب بنا لیا”

سورہ آل عمران3: 64
“اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے”
ان چھوٹی چھوٹی دونوں آیات میں ارباب سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں قوموں اور گروہوں نے مطلقا اپنا رہنما و پیشوا مان لیا ہو۔ جن کی امر و نہی ضابطہ و قانون اور تحریر و تحریم کو بلا کسی سند کے تسلیم کیا جاتا ہو، جنہیں بجائے خود حکم دینے اور منع کرنے کا حقدار سمجھا جاتا ہو۔

اس کے پانچویں اور آخری نمبر کیلئے مثال یہ ہے؛
کہ وہ مالک اور آقا ہے، سورہ قریش 106: 4,3
“لہذا انہیں اس گھر کے مالک کی عبادت کرنی چاہیے جس نے ان کی رزق رسانی کا انتظام کیا ہے اور انہیں بد امنی سے محفوظ رکھا ہے”

اس حوالے سے تفہیم القران کے مفسر سید ابو الاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ پس ان قریش مکہ کو جو کچھ بھی نصیب ہوا ہے اس گھر کی رب کی بدولت نصیب ہوا ہے اس لیے اسی کی ان کو عبادت کرنی چاہیے۔

دنیا کے تمام تر جاہل لوگ ہر دور میں اس غلطی میں مبتلا تھے اور ہیں کہ ربوبیت کے اس جامع تصور کو انہوں نے پانچ مختلف النوع ربوبیتوں میں تقسیم کر دیا اور اپنی قیاس و گمان سے یہ رائے قائم کی کہ مختلف قسم کی ربوبیتیں مختلف ہستیوں سے متعلق ہو سکتی ہیں اور متعلق ہیں۔ قران اپنی طاقتور استدلال سے ثابت کرتا ہے کہ کائنات کا یہ اس مکمل مرکزی نظام میں اس بات کی مطلق گنجائش نہیں ہے کہ اقتدار اعلی جس کے ہاتھ میں ہے اس کے سوا ربوبیت کا کوئی کام کسی دوسری ہستی سے کسی درجے میں بھی متعلق ہو۔ اس نظام کی مرکزیت خود گواہ ہے کہ ہر طرح کی ربوبیت اسی خدا کے لیے مختص ہے جو اس نظام کو وجود میں لایا۔ لہذا جو شخص اس نظام کے اندر رہتے ہوئے ربوبیت کا کوئی جز، کسی معنی میں بھی خدا کے سوا کسی اور سے متعلق سمجھتا ہے یا متعلق کرتا ہے وہ درحقیقت حقیقت سے لڑتا ہے، صداقت سے منہ موڑتا ہے، حق کے خلاف بغاوت کرتا ہے، اور امر واقعی کے خلاف کام کر کے اپنے آپکو خود نقصان اور ہلاکت میں مبتلا کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنی تعلیمات کو سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق اور ہمت سے نوازے تاکہ ہم اس دنیا میں بھی کامیاب ہو جائیں اور آخرت میں بھی ہمارے رب ہمیں کامیاب فرمائے۔ آخری وقت میں ہم کہیں رنگے ہاتھوں پکڑے جائیں، اس وقت ہماری زبانوں پر کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ جاری و ساری فرمانا۔ آمین یارب العالمین۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *