محترم جمیل اطہر قاضی صاحب ایک ایسی شخصیت کے مالک ہیں جو بہت خیرط۔ خواہ، ہر دلعزیز, ہمدرد، زیرک، مدبر، مصنف، تاریخ ساز، صابر، پر وقار، ہنس مکھ طبیعت سے مزین، خشوع و خضوع سے لبریز، ہر وقت چست و چالاک اور اسی طرح کی بیشمار خوبیوں کے مالک کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو ان کی نئی تصنیف “اخبار فروش سے اخبار نویس تک” میں قدم قدم پہ بین ثبوت اور شواہد کے ساتھ موجود دیکھی جا سکتی ہیں۔
میں یہاں اس کتاب کے ان اوراق کا تذکرہ سب سے پہلے کرنا چاہتا ہوں کہ جن میں آج کے پاکستانی کو پاکستان کی قدر پہچاننے کا درس ملتا ہے اور اس کیلئے کچھ زیادہ وقت لینا چاہتا ہوں. وہ لکھتے ہیں کہ، وہ سرہند میں رہتے تھے، وہاں سے پٹیالہ اس لئے چلے گئے کہ وہ سکھوں کے حملوں سے حفاظت کے لئے سرہند کی نسبت زیادہ محفوظ جگہ تھی اور وہاں ان کے نانا اور ماموں رہتے تھے جو دونوں پولیس میں ملازم تھے۔
وہاں سکھ بلوائیوں کے حملوں سے بچنے کیلئے کبھی ایک حویلی میں گئے اور کبھی دوسری میں جانا پڑا، ان کے الفاظ ہیں کہ، “فائرنگ کی آوازوں سے پوری حویلی میں ہلچل مچی ہوئی تھی اور ہر شخص اس فکر میں غلطان ہو گیا کہ اب اور کہاں پناہ لی جائے، ہم بھی ان لوگوں کے ساتھ ہو لیے جو یہ والی حویلی چھوڑ کر کسی اور قدر محفوظ مقام کی تلاش میں تھے۔ چند محلے چھوڑ کر پھر ایک ایسی ہی حویلی تھی۔ اب لوگوں کا رخ اس کی طرف تھا ہم بھی وہاں چلے گئے۔ چند منٹوں کے بعد حویلی کے مالک نے چیخ چیخ کر یہ اعلان کیا کہ سکھوں کا ایک جتھہ اس حویلی پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہو رہا ہے(اس نے کہا) میں نے اپنے گھر کے صحن میں بجلی کی تاریں ننگی کر دی ہیں بہتر یہ ہے کہ عورتیں سکھوں کے حملے سے پہلے بجلی کی اس تار سے ہاتھ لگا کر اپنی جان دے دیں تاکہ سکھوں کے ہاتھوں توہین سے محفوظ رہیں. میری والدہ بھی ہم بھائیوں کو لے کر بجلی کی تار کو ہاتھ لگانے کے لیے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جا رہی تھی جب وہ صحن میں پہنچی تو ان کے دل میں یہ خیال آیا کہ میں جان دینے سے قبل بچوں کو پانی پلا لوں وہ پانی کے نل کی طرف لپکی اس دوران ہمارے مامون نے ہمیں دیکھ لیا اور ابھی ہم پانی پی نہ پائے تھے کہ وہ گھسیٹ کر ہمیں اس حویلی سے باہر لے گئے اس کے بعد ہمارا ٹھکانہ دکانوں کے اگے جو تخت لگائے جاتے ہیں ان کے نیچے نالیوں میں چھپ کر اپنے آپ کو بچانا تھا. ہمارے سامنے سڑک پر لاشوں کے ڈھیر دکھائی دیتے تھے یا گولیوں کی آوازیں تھیں۔ اس دوران مجھے حاجت ہوئی اور میں ایک دکان کی سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر پہنچا تو وہاں لاشوں کے ڈھیر پڑے ہوئے تھے اور میں خوف سے نیچے اتر آیا”
آپ ایک ایک لفظ کو پڑھتے جائیں، روتے جائیں اور ساتھ ساتھ اس پاکستان کی قدر پہچاننے کی فکر کریں کہ یہ پاکستان کن قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے، اس کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور اس کی مجموعی قدر پہچاننی چاہئے۔ محترم قاضی صاحب کی اس کتاب، “اخبار فروش سے اخبار نویس تک” نے گویا ان حالات کا خوب نقشہ کھینچا ہے اور اسے پڑھنے سے اس وقت کے کربناک اور خوفناک حالات کا پتہ چلتا ہے۔
“اخبار فروش سے اخبار نویس تک” میں انھوں نے یہ لکھا ہے کہ ان کے گھر کے حالات اچھے نہ تھے۔ والد صاحب مالی مشکلات کا شکار رہے۔ انھوں نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ کس طرح وہ اپنے والدین کی اچھی اچھی نصیحتوں پر عمل کرتے تھے۔ ان کے الفاظ ہیں کہ میں آج جو کچھ ہوں اپنے والدین کی دعائوں سے ہوں۔
اخبار فروشی سے ابتدا کرنے والا یہ نوجوان اخبار میں ہی ملازمت کر کے جب معمولی تنخواہ لیتا ہے تو اس میں سے ایک حصہ اپنی عزیزہ کی مالی مدد کیلئے دینے لگتا ہے۔ بلا شبہ انھوں نے وسائل کی پرواہ کیے بغیر اپنی اس عادت کو جاری رکھا اور دوسروں کا ہمیشہ خیال رکھا۔
صحافتی شراکت میں بھی کام کیا اور انفرادی صحافت میں بھی کام کرتے ہوئے صحافت کو آگے بڑھایا اور عظیم الشان کامیابیاں اور کامرانیاں حاصل کیں۔
محترم جمیل اطہر قاضی صاحب کی صحافت پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیشہ سے ہی پاکستان کے نظریاتی اقدار کے گرد گھومتی ہوئی دکھائی دیتی ہے جس کیلئے انھوں نے پوری عمر لگا دی اور اسی پر ان کا سفر جاری ہے۔
اس کتاب کا تجزیہ کرتے ہوئے ایک بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ مصنف کے نزدیک صحافت محض کاروبار یا پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں رہا ہے بلکہ یہ ایک مشن اور قومی امانت رہا ہے، اسی لیے انھوں نے طرح طرح کی شدید پابندیوں کے دور دیکھے، مالی بحران جھیلے لیکن ان کے قلم میں کبھی لغزش آئی اور نہ ہی کبھی کسی مصلحت کا شکار ہوئے۔ یہ بات آپ کو چیدہ چیدہ مصنفین میں ہی نظر آئینگے۔
آپ کی یہ تصنیف پڑھنے والے کے اندر مایوسی کو ختم کر کے امید کے چراغ جلاتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ ایمانداری، محنت، دلچسپی اور لگن سے کام کیا جائے تو کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔ ہمارے محترم جمیل اطہر قاضی صاحب نے لمحہ بہ لمحہ صحافت کے میدان میں خود کو نہ صرف منوایا ہے بلکہ اس کا عملی مظاہرہ کر کے بھی دکھایا ہے۔ اس لیے یہ کتاب پاکستانی صحافت کی تاریخ کا ایک ایسا اچھا نظریاتی اور حریت فکر کا باب ہے کہ جسے پڑھے بغیر برصغیر کی صحافتی تاریخ کا خلا ہمیشہ نامکمل رہے گا۔
آپ نے انگریزی صحافت کا کام بھی کیا اور اس میں خواجہ محمد افتخار اور فضل محمود صاحبان سے استفادہ بھی کیا۔ انگریزی صحافت میں بھی جتنا کام کیا وہ منظم اور مربوط تھا۔ یوں انگریزی صحافت میں بھی آپ کی جھلک نمایاں اور مثالی تھی۔
کہیں کہیں تھوڑا بہت مزاحیہ انداز بھی اپنایا جیسے “اخبار فروش سے اخبار نویس تک” میں ایک جگہ عبد الرشید اشک صاحب کے حوالے سے قلم اٹھایا تو لکھا، “اشک صاحب کے اشک”۔ آپ کمال کے ہنس مکھ اور حاضر جواب شخصیت کے مالک ہیں۔
محترم جمیل اطہر قاضی صاحب نے اپنی اس تصنیف میں پاکستان کے متعلق درد دل رکھنے والی شخصیات کا ایک بڑی تعداد میں ذکر کیا ہے۔ آپ نے مختلف مواقع پر ان کی صلاحیتوں کے مطابق ان کی خوبیوں کو اجاگر کیا ہے۔ اب ایسے زیرک حضرات کے متعلق بین السطور احوال تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔
آپ کو کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ایس) کا صدر منتخب ہونے کا بھی اعزاز حاصل رہا۔ یہ اعزاز تین سال تک رہا۔ آپ نے اپنی صدارت کے دور میں نمایاں کارکردگی کا حق ادا کیا جس سے صحافت کو بہت فروغ ملا۔
آپ صحافت کے میدان کے ایسے ستارے تھے کہ جنھیں صدر پاکستان نے تمغہ امتیاز سے نوازا ہے۔ آنکھوں میں رقت طاری ہوتی ہے جب جب اس موقع پر تصور کی نگاہ سے دیکھتا ہوں کہ انیس سو سینتالیس کے ہنگامے سے بچ کے آنے والا یہ بچہ جو بعد میں اخبار فروش رہا اب صدر پاکستان سے صحافت میں تمغہ امتیاز حاصل کر رہا ہے۔ (واہ رے تیرے نصیب قاضی)
محترم قاضی صاحب کی یہ تصنیف پڑھتے ہوئے واضح ہوتا ہے کہ انھیں اپنے خدائے ذوالجلال اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہمیشہ گہرا تعلق اور بھروسہ رہا، اور ہے۔ اللہ تعالیٰ اس تعلق کو قائم و دائم رکھے بلکہ اضافہ فرمائے اور دوسروں میں بھی یہی جذبہ موجزن ہو جائے۔
میرا یہ “اخبار فروش سے اخبار نویس” کی تصنیف پر تبصرہ اونٹ کے منہ میں زیرہ والی بات سے کچھ زیادہ نہیں۔ بس مقصد اس کے سوا اور نہیں کہ میں بھی اس کتاب کے تبصرہ نگاروں میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل کر لوں۔ زہے نصیب ۔۔۔ زہے نصیب۔
اگر کوئی یہ کہے کہ اگر اس طرح کا تبصرہ لکھنا تھا تو نہ ہی لکھتے، تو بھی مجھے ذرا غصہ نہ آتا کیونکہ مجھے اپنے متعلق ایسی امید پہلے ہی تھی۔ اصل بات وہی ہے جو اوپر لکھی ہے کہ میرا مقصد اس کتاب کے تبصرہ نگاروں میں شامل ہونے کا تھا، جو پورا ہوا۔
اللہ تعالیٰ جل شانہ محترم جمیل اطہر قاضی کی عمر دراز فرمائے اور یہ اسی طرح صحافت، رہنمائی، اور قیادت کا فریضہ ادا کرتے رہیں۔
آمین یارب العالمین۔