اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ان گنت ہیں۔ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس ذات بالا صفات کی نعمتیں اربوں میں ہیں یا کہے کھربوں میں ہیں، اس نے کم کہا۔ صحیح یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ان گنت ہیں، لاتعداد ہیں۔
خود خالق کائنات نے اس کے حوالے سے فرما دیا، ارشاد خداوندی کچھ یوں ہے، “اگر تم میری نعمتوں کو گننا چاہو تو گن (شمار کر) نہیں سکتے”
ہمارے اوپر ہمارے رب کی نعمتوں کی بارش ہر وقت مسلسل برس رہی ہے ہر ذرہ کائنات اس مالک حقیقی کی رحمتوں کے مقدس سائے میں اس کے قوانین پر عمل کرتے ہوئے آرام کی زندگی گزار رہا ہے۔ کوئی شے ایسی نہیں جس سے ہمیں رب کریم کی شان رحمت سے حصہ نہ ملا ہو۔
مخلوق کا عدم سے وجود میں آنا کیا کوئی چھوٹی بات ہے، ہم تو کچھ بھی نہیں تھے وہ ہمیں وجود میں لایا۔ یہ بڑا کام اس کے فضل و کرم سے ہی ممکن ہوا ہے۔ سورہ الدہر/الانسان آیت 1,2 میں اس حوالے سے خود ہی مالک کائنات نے فرما دیا، “کیا انسان پر لا متناہی زمانے کا ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا۔ ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کیلئے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا۔
اللہ تعالی کا بے بایاں کرم ہے کہ اس نے ہم مسلمانوں کو دوسروں سے زیادہ رحمت کا حصہ عطا فرمایا ہے۔
اس رب ذوالجلال والاکرام کی دوسری نعمت یہ کہ اس نے ہمیں کوئی جانور نہیں بنایا بلکہ انسان بنایا اور بہترین صورت عطا فرمائی ہے اس پہ بھی ہم اللہ تعالی کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے اور اس کو خود اللہ تعالی نے سورہ تین کی آیت نمبر چار میں فرمایا کہ، “بے شک ہم نے انسان کو اچھی شکل و صورت میں پیدا کیا ہے”
پھر یہ بھی بہت بڑی نعمت خداوندی ہے کہ ہمیں ایمان کی دولت سے مالا مال فرمایا. چوتھی عظیم نعمت خدا کی آخری کتاب قران پاک ہمیں دی ہے. پانچویں بڑی نعمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خاتم النبیین بنا کے بھیجا گیا ہے اب رہتی دنیا تک لوگوں کی رہنمائی کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات ہیں۔ چھٹی اللہ تعالی کی نعمت ہے کہ ہمیں اس ذات نے بہترین امت بنایا ہے جیسے کہ قران پاک میں فرمایا، “تم بہترین امت ہو, گروہ ہو تمہیں لوگوں کے لیے پیدا کیا گیا ہے” ساتویں اللہ تعالی کی نعمت ہے کہ اس نے ہمیں شعور اور عقل عطا فرمائی ہے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں۔ اٹھویں اللہ تعالی کی نعمت یہ ہے کہ اس نے ہمیں مقصود کائنات قرار دیا ہے۔ اور یہ بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے بلکہ سب سے بڑی نعمت ہے کہ اللہ تعالی نے ہوا بھی ہمیں عطا فرمائی ہے۔ موسم گرما ہو یا سرما ہو، بہار ہو یا خزاں، ان سب میں ہوا کو جو بنیادی اہمیت حاصل ہے اس سے کون انکار کر سکتا ہے۔
ہوا اللہ تعالی کی عظیم الشان اور مسلسل نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے جس کے بغیر کرہ عرض پر زندگی کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا، یہ نا صرف انسانوں بلکہ جانوروں اور پودوں کے زندہ رہنے کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ اس بیش بہا نعمت کی اہمیت کو قران پاک میں بھی جابجا بیان کیا گیا ہے اور اس کا شمار اللہ تعالی کی بے شمار رحمتوں میں ہوتا ہے جن پر ہم جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے۔ پہلے تو ہم دیکھیں کہ نظام تنفس میں ہر جاندار کو سانس لینے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہے جو ہماری زندگی کا اٹوٹ حصہ ہے۔ یہ ہر لمحہ مفت میسر ہے بلکہ مجھے کہنے دیجئے کہ یہی وہ چیز ہے جس کے بغیر ہم چند منٹوں سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتے۔ اس کی موجودگی سے درجہ حرارت کا توازن رہتا ہے۔ یہ گرمی اور سردی کے موسم کو معتدل رکھتی ہے اور سمندروں کے پانی کو بخارات میں تبدیل کر کے بارش کا نظام بناتی ہے۔ ہوا بارش کے ساتھ ساتھ زراعت میں مفید ہے۔ یہ بادلوں کو اپنے دوش پر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے کر جاتی ہے جس سے بارش برسنے پر زمین سیراب ہوتی ہے اور فصلیں ہوتی ہیں, اناج حاصل ہوتا ہے، ترکاریاں ملتی ہیں، میوہ جات حاصل ہوتے ہیں۔ جس سے زراعت کو ترقی ملتی ہے۔ اس کے ذریعے سے ماحولیاتی توازن بہتر ہوتا ہے اور برقرار رہتا ہے۔
پھر یہ بھی تو دیکھیں کہ ہواؤں کے ذریعے سے موسموں کی تبدیلی۔ واقع ہوتی ہے جس کے بنی نوع انسان کو بہت سے فائدے ہیں۔ ذہنی اور جسمانی تندرستی اسی ہوا کی وجہ سے ہے۔ ان سب فائدوں کے ساتھ نتیجتاً اقتصادی اور معاشی حالت پروان چڑھتی ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی کو عروج حاصل ہوتا ہے اور فوجی اور سیاسی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔
کبھی آپ نے یہ بھی غور کیا کہ ہوا ہمیں نقصان دہ شعاؤں سے بھی بچاتی ہے۔ اس کا یہ عمل بھی ہم سب انسانوں اور حیوانوں کیلئے بہت مفید ہے۔
دوسری طرف یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ جب یہ ہوا آلودہ ہو جاتی ہے تو اس کے بے شمار نقصانات ہیں اور ان نقصانات کے تدارک کے لیے ہمیں انفرادی طور پر اور ہماری حکومتوں کو اجتماعی اور بڑے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے کوشش کرنی چاہیے کہ ہوا زیادہ سے زیادہ صاف رہے۔ آپ کو معلوم ہی ہے کہ آج کل صنعتی ترقی اور گاڑیوں کے دھوئیں کی وجہ سے ہوا میں آلودگی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے جس کو ہم سموگ کہتے ہیں۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے شجرکاری انتہائی ضروری ہے کیونکہ شجر کاری ہو گی تو درخت بڑھیں گے درخت بڑھیں گے تو ہوا صاف ہو گی۔
درخت ہی تو ہوا صاف کرتے ہیں، آکسیجن کے خزانے میں ایک درخت کئی انسانوں کی ہوا کا بندوبست کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی فیکٹری ہے جو بعض اوقات چھتیس بچوں کو صرف ایک درخت ہوا مہیا کرتا ہے۔ ہوا ہمارے ارد گرد ایک لحاف کی طرح پھیلی ہوئی ہے اور لحاف کی طرح حفاظت کرتی ہے۔ اس کے بغیر ہم زندہ نہیں رہ سکتے لیکن ہمیں اس کی آلودگی کا بھی خیال کرنا چاہیے اس کو پاک صاف کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیں، جو کچھ ہمارے بس میں ہے کر گزرنا چاہیے۔
ذرا رک جائیے! اور دل کی گہرائیوں سے سوچئے کہ جو چیز ہر وقت ہمارے پھپھڑوں میں جاتی اور باہر آتی ہے اس کو صاف ستھرا رکھنا ہماری قومی اور بین الاقوامی ذمہ داری ہے۔ ہماری زندگی سانس آنے کے مرہون منت ہے اور سانس کیلئے ہوا کی کوالٹی سے کمپرومائز کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ذات بالا صفات ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر کرنے والا ادنیٰ سا بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے جو ہم گنہگاروں کیلئے ایک معراج سے کم نہیں۔ پھر یہ دعا بھی ہے کہ ہماری دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی درست ہو جائے۔ ہمیں عزت اور عظمت ملے اور صحابہ کرام جیسا وقار نصیب ہو۔ آمین یارب العالمین۔