لفظ “آلہ” کی اصطلاح اور قران مجید

نثار احمد عابد (فکر و نظر)

عربی زبان میں لفظ الہ کا مطلب معبود یعنی وہ ذات جس کی عبادت اور پرستش کی جائے، ہر وہ ہستی یا چیز جسے پوجا جائے، لغوی اعتبار سے الہ کہلاتی ہے لیکن اسلام میں حقیقی اور برحق الہ صرف اللہ تعالی کی ذات ہے۔

الہ کی تعریف یہ ہے اور یہ کئی مقامات پر بیان کی گئی ہے اور قرآن پاک خود اس کی وضاحت فرماتا ہے۔ سورہ البقرہ آیت 163 کو ہی دیکھ لیجئے، ارشاد خداوندی ہے”تمہارا (الہ) خدا ایک ہی خدا ہے اس رحمان و رحیم کے سوا کوئی اور (خدا) نہیں”

معروف مفسر قران مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی، اللہ تعالی ان کو قبر میں راحت نصیب فرمائے اور جنت میں ہمیں ان کا ساتھ نصیب فرمائے، وہ لکھتے ہیں کہ الہ وہ ذات ہے جس کی تعظیم کی جائے اور جس سے محبت کی جائے۔
وہ مزید لکھتے ہیں کہ کائنات کا حقیقی الہ اور معبود برحق صرف اللہ تعالی ہے اس کے سوا کوئی بھی ہستی اس لائق نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے یا اس کے آگے جھکا جائے۔

اس کے متعلق تفصیلات جاننے کے لیے ہمیں خود قران پاک کے مختلف مقامات سے مختلف آیات کو جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ الہ کے مطلب کو ہم اچھی طرح سے جان جائیں اور پہچان جائیں۔

سورہ یاسین 74 نمبر آیت میں ارشاد خداوندی ہے اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے الہ بنا لیے ہیں اس امید پر کہ ان کی مدد کی جائے گی۔

اب ذرا غور کیجیے اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل جاہلیت جنہیں الہ کہتے تھے ان کے متعلق وہ سمجھتے تھے کہ وہ ان کی پشتی بان ہیں، مشکلات اور مصائب میں ان کی حفاظت کرتے ہیں ان کی حمایت میں وہ خوف و نقصان سے محفوظ ہو جاتے ہیں۔

پھر اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ سب ان کے کام نہ ائے، اس حوالے سے سورہ النحل کی 20 نمبر آیت میں اس کی اچھی تشریح کر دی گئی ہے، “فرمایا اور اللہ کی بجائے جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کے بھی خالق نہیں ہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں، مردہ ہیں نہ کہ زندہ اور انہیں یہ بھی خبر نہیں ہے کہ انہیں کب دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا (ساتھ ہی یہ بھی فرمایا) تمہارا الہ تو ایک ہی ہے.

آگے چلتے ہیں تو سورہ یاسین کی 22 اور 23 نمبر آیات میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے، “کیوں نہ میں اس کی عبادت کروں جس نے مجھے پیدا کیا اور جن کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے کیا اس کے سوا میں انہیں الہ بناؤں جن کا حال یہ ہے کہ اگر رحمان مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو ان کی سفارش میرے کچھ کام نہیں آ سکتی اور وہ مجھے چھڑا نہیں سکتے۔

سورہ یونس کی آیت نمبر 18 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے، ” وہ اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں ضرر پہنچانے پہ قادر ہیں نہ نفع اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں”

ان آیات اور ایسی ہی دوسری آیات کو پڑھتے جائیے اور غور و فکر و تدبر کرتے جائیں تو رہنمائی ملتی جاتی ہے اور مسائل حل ہوتے جاتے ہیں۔

پھر آپ ذرا سورہ انعام 80 نمبر آیت کو بھی دیکھیں یہاں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ میں اس سے ہرگز نہیں ڈرتا جنہیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو الا یہ کہ میرا رب ہی کچھ چاہے، تو وہ البتہ ہو سکتا ہے۔

اسی طرح سورہ ہود کی 54 نمبر آیت میں ہے، “ہود علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے اسے کہا کہ ہم تو کہتے ہیں کہ تجھ پر ہمارے الہوں میں سے کسی کی مار پڑی ہے”

ان آیات سے معلوم یہ ہوا کہ اہل جاہلیت اپنے الہوں سے یہ خوف رکھتے تھے کہ اگر ہم نے ان کو کسی طرح ناراض کر دیا یا ان کی توجہات و عنایات سے محروم ہو گئے تو ہم پر بیماری، قید، نقصان جان و مال اور دوسری قسم کی آفات نازل ہو جائیں گی اسی لیے وہ اسلام کے خالص دین کو قبول کرنے کی طرف نہیں آتے تھے۔ سوائے ان چند خوش قسمت لوگوں کے جو ایمان لائے۔

یہاں ایک اور پہلو سے بھی دیکھیے کہ کچھ لوگ اپنی خواہشات نفس کو اپنا الہ بنا لیتے ہیں وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کی خواہش خدا کے قانون کے خلاف ہے یا اس کے تحت ہے۔ ایسے لوگ اکثر اس طرح کی غلطی کرتے رہتے ہیں اور اپنے لیے آخرت میں سخت آزمائش کو دیکھنے کا انتظام کرتے ہیں۔

محسن انسانیت کے مصنف نعیم صدیقی صاحب لکھتے ہیں کہ “الہ” اس طاقت یا ہستی کو کہتے ہیں جس کی غلامی کی جائے، جس پر آدمی والہانہ طور پر فدا ہو، جس کی عظمت مان کر اس کی پرستش کرے، جس کی تحمید و تقدیس کرے، جس کے گن گائے، جس کی تسبیح کرے، جس کو نذر پیش کرے، جس سے بھلائی کی امیدیں لگائے اور جس کی گرفت سے ڈرے، جس سے نیکی کی جزا کا امیدوار ہو اور جس سے برائی کی سزا کا اندیشہ رکھے، جس کو اپنا مالک و مختار سمجھے، جس کو فرما روا اور قانون دان مانے، جس کے مطالبوں کو پورا کرے اور جس کے منع کردہ امور سے باز رہے، جس کے دیے ہوئے اصولوں کو بنائے زندگی بنائے، جس کی مقررہ حدوں کی وہ پابندی کرے، جس کے ضابطہ حلال و حرام کو بے چین و چرا مانے جس کو اپنے لیے سرچشمہ ہدایت تسلیم کرے، جس کی مرضی کے مطابق نظام حیات کی تشکیل کرے، جس کے پسندیدہ لوگوں کا احترام کرے اور جس کے مخالفوں کی مخالفت کرے، جس کے اشاروں پر تن من دھن کی بازی لگا دے اور جس کی مرضی کو زندگی کا نصب العین قرار دے۔ وہ لکھتے ہیں کہ الوہیت کا یہ وہ وسیع مفہوم تھا جو ایک لفظ “الہ” میں پنہاں تھا۔
(انھوں نے لکھا ہے کہ یہ مولانا مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب قران کی چار بنیادی اصطلاحیں سے ماخوذ ہے)

ایسا ہی مطلب سمجھے تھے اہل مکہ اور عرب کے دیگر لوگ تبھی تو جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سامنے یہ فرمایا کہ قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا ۔۔۔ لا الہ الا اللہ کہہ دو فلاح پا جاؤ گے کیونکہ وہ عربی جانتے تھے انہوں نے اگر یہ مطلب لیا ہوتا کہ ہم اپنے الہوں کی بھی عبادت کر لیں گے، وہ بھی جاری رہے گی اور جس الہ کی عبادت کے لیے ہمیں کہا جا رہا ہے وہ بھی کر لیں گے، تو وہ مخالفت نہ کرتے یا اس شدت کی مخالفت نہ کرتے جو انہوں نے کی تھی اور جس میں ان کے اپنے گھرانے کے افراد بہت قریبی رشتہ دار بھی شامل تھے کیونکہ وہ تو جانتے تھے کہ الہ کا مطلب اصل میں کیا ہے۔

دراصل الوہیت کے یہ وہ حقوق تھے جو اس معاشرے میں خدائے واحد سے الگ کر کے بہت سی انسانی طاقتوں نے پارہ پارہ کر کے خوب خوب بانٹ رکھے تھے اور بے شمار الہ تمدن پر سوار تھے۔

“انسان کا اپنا نفس اور اس کی خواہشیں خاندان اور برادری کی رسومات، نسلی قومی اور قبیلوی وحدتوں کی روایات، جاگیردار اور پجاری طبقوں کی بالادستی، شاہی خاندانوں اور درباری اشراف کی کبر پسندی اور ان کا غرور۔

یہ مختلف طبق پر طبق الوہیتیں تھیں جن کے نیچے عام آدمی پس رہا تھا لا الہ الا اللہ کی صحیح ضرب ان سب پر یکدم پڑتی تھی اس کلمے کا کہنے والا گویا یہ اعلان کرتا تھا کہ خدا کے سوا کسی کی بڑھائی مجھے تسلیم نہیں، کسی کی بالادستی اور اقتدار مجھے قبول نہیں۔ کسی کا بنایا ہوا ضابطہ و قانون مجھے منظور نہیں کسی کے حاصل کردہ فوق الانسانی حقوق جائز نہیں۔ اور یہ کہ کسی کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کیا جائے گا، اب کسی کی رضا جوئی اب نہ کی جائے گی اور کسی کے اشارہ ابرو پر اب زندگی کا نظام نہیں چلے گا خدا کے سوا ہر دوسری خدائی توڑ دی جائے گی اور یہ لا الہ الا اللہ والا کلمہ گویا انسان کی سچی اور عظیم الشان آزادی کا اعلان تھا۔

آخر میں میری یہ رب کائنات سے دعا ہے کہ وہ ہمیں الہ کے صحیح مطلب کو سمجھنے اور اس کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم اس کے ثمرات حاصل کریں اور دنیا میں بھی کامیاب ہو جائیں اور آخرت میں بھی اللہ تعالی ہمیں کامیاب فرما دے اور خاص طور پر موجودہ جو امت مسلمہ ذلتوں میں پھنسی ہوئی ہے اسے اس سے نکلنے اور اپنے صحابہ کرام کی طرح جنہوں نے الہ کا مطلب صحیح سمجھا تھا اور عزت و عظمت حاصل کی تھی، ان کی طرح ہمیں بھی عزتیں اور عظمتیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0