پانی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت نثار احمد عابد (فکر و نظر)

اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتیں ہیں اور ہم ہمہ وقت ان سے فوائد بھی حاصل کر رہے ہیں۔ جو چیزیں انسان کیلئے بنیادی حیثیت رکھتی ہیں ان میں سے ایک چیز ہوا ہے، دوسری پانی، تیسری روشنی اور چوتھی مٹی۔

آج میں پانی جیسی عظیم نعمت کے حوالے سے کچھ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

پانی بنی نوع انسان کے جسم کا تقریباً 70 فیصد ہے۔ یہ بیشمار فائدوں کی طرح ہاضمے، درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے اور زہریلے مادوں کے اخراج کے لیے ضروری ہے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ، “ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا” سورت الانبیاء آیت 30۔

پانی زمین کے اوپر چشموں، دریائوں، نہروں، ندیوں، نالوں اور جوہڑوں وغیرہ میں ہوتا ہے۔ سب سے بڑا پانی کا منبہ سمندر ہے۔ اتنی بڑی زمین میں ایک حصہ خشکی ہے اور دو حصے پانی ہوتا ہے۔ پانی زمین کے اندر بھی ہوتا ہے۔ تبھی تو نلکوں اور ٹیوب ویلوں کے ذریعے اسے زمین سے نکال کر استعمال کرتے ہیں۔ جب اللہ کی طرف سے بارش نہیں ہوتی، خشک سالی کی کیفیت ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات نیچے زمین والے پانی کی سطح پر بھی ہوتے ہیں، اس سے زمین کے نیچے والے پانی کی سطح نیچے ہو جاتی ہے۔ اگر یہ بہت زیادہ نیچے ہو جائے، گویا ہماری پہنچ سے دور ہو جائے تو، “اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو اس پانی کی بہتی ہوئی سوتین تمہیں نکال کر لا دے گا” سورہ الملک آیت نمبر 30.
یعنی کیا خدا کے سوا کسی میں یہ طاقت ہے کہ پانی کے ان سوتوں کو پھر سے جاری کر دے۔ (نہیں ہے اور یقیناً نہیں ہے)

پانی انسانی زندگی کی دوسری بڑی ضرورت ہے۔ اس ضرورت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ہماری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ اسراف کی ہر صورت کو روکا جائے۔ اس لئے خود خالق کائنات نے نہایت ہی واضح انداز میں پانی کے اسراف کو روکا ہے۔ سورہ الاعراف آیت 31 میں ارشاد خداوندی ہے، “کھائو اور پیو اور اسراف (حد سے تجاوز) نہ کرو”

اللہ تبارک وتعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو یا غسل کرتے وقت بھی پانی کے استعمال میں احتیاط نہ کرنے اور بے دریغ اس کے استعمال سے روکا ہے، چاہے آپ بہتے دریا کے کنارے پر بیٹھے ہوں۔

حدیث کے الفاظ کچھ یوں ہیں؛
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہ بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس سے ہوا وہ وضو کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پانی زیادہ استعمال کرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا، “سعد یہ کیسا اسراف ہے” (یعنی فضول خرچی ہے)۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کیا، “کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا, “ہاں اگرچہ تم بہتے دریا کے کنارے پر ہی کیوں نہ بیٹھے ہو”
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 425)

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پانی کا درست استعمال اس نعمت کی قدر کرنے کے مترادف ہے۔

کیا آپ نے ملاحظہ فرمایا اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ایکو سسٹم کے مطابق کہاں کہاں سے آبی بخارات اڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت، ہوا کے دوش پر کہاں کہاں پہنچتے ہیں۔ پھر جب سرد فضا میں پہنچتے ہیں تو بارش ہوتی ہے، اولے پڑتے ہیں اور باقاعدہ برف باری ہوتی ہے اور اس طرح سردیوں میں تہہ بہ تہہ روزانہ فٹوں کے حساب سے برف جمتی ہے۔ پھر گرمیوں میں پگل پگل کر آبشاروں، ندی نالوں کے ذریعے لوگوں کی، ان کے مال مویشیوں کی اور کھیتیوں کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ فالتو پانی سمندر میں جا گرتا ہے۔ گویا یہ اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا حیران کن سسٹم ہے جس سسٹم میں در اصل ہماری زندگی ہے۔

خدا و رسول کے احکامات اور معاشرے کی ضرورتوں کا لحاظ رکھتے ہوئے پانی کو ضائع کرنے والے ہر طریقے کو ختم کیا جائے۔ تعلیمات بھی ہوں اور قانون کی لاٹھی بھی حرکت میں آنی چاہیے۔

دیکھا گیا ہے کہ پانی کے نل جونہی کھلے چھوٹے جاتے ہیں۔ جس سے ہزاروں لٹر پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ گاڑیاں دھوتے ہوئے جب صابن لگاتے ہیں تو کلمپ بند کر دینا چاہیے۔ ٹونٹی خراب ہو گئی ہو تو ریپئرنگ کروانی چاہیے۔ ایسے پانی کو ضائع ہونے سے روکنے کے اقدامات کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ خواہ گورنمنٹ کو اپنے لاٹھی حرکت میں لانے کی ضرورت ہو۔

فیکٹریوں میں پانی ری سائیکل کروانے کیلئے حکومت اقدامات کرے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا اہتمام بھی مفید ہوگا۔ پانی چوری کرنے والوں کو سختی سے منع کرنا ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے اور حکومت وقت کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

آخر میں دعا کرتے رہنا چاہیے کہ ہم ان سب کاموں سے باز رہیں جن سے ہمیں منع کیا گیا ہے اور وہ تمام کام کرنے کی توفیق کی بھی دعا کی ضرورت ہے جن کاموں سے روکا گیا ہے۔ بالخصوص پانی کے زیاں سے رکنا چاہیے کہ جس پانی کے اسراف سے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ آمین یارب العالمین۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

0